Essay on Holy Prophet  صلی اللہ علیہ وسلم english/urdu

A prophet is a spokesman or messenger sent by God to impart divine guidance and knowledge to human beings. God sent the Prophet Muhammad (P.B.U.H.) as the last Prophet for all humanity. A prophet’s prophecies or revelations are called prophecies, and the person who wrote them down or spoke them aloud is called a prophet. 

According to the Islamic calendar, the Prophet Muhammad (P.B.U.H.) was born on the 12th of Rabi ul Awal (according to the Islamic calendar). In Islam, the Muslims believe that the Holy Prophet Muhammad (P.B.U.H.) is the last of the prophets to come to this world till Judgment Day.

Muhammad (peace and blessings be upon him) began his mission at forty when the angel Gabriel appeared to him. This angel commanded him to “Recite!” In this way, he revealed the Qur’an over 23 years. In 610 A.D., Muhammad experienced revelations from the angel Gabriel. He became a successful missionary and developed a strategy based on trust, honesty, and fairness. He began to attract loyal converts. By the time of his death, the religion was well established across large regions. 

The mission of Prophet Muhammad (P.B.U.H.) was to spread the message that there was only one God in all existence. Islam considers Muhammad its last Prophet, though he was also a messenger in the Abrahamic tradition and mercy for all creation. 

Muhammad’s life is a model for every Muslim who believes in Allah and the Day of Judgment. He was a role model, a statesman, a warrior, a scholar, a messenger of God, His Prophet to his people, and a virtuous human being. 

The life of the Holy Prophet is the most outstanding Islamic teaching recommended to people for centuries. He and his teachings are guiding lights for every individual to avoid the pitfalls of ignorance and find guidance in a world full of darkness and obscurity. 

The Holy Prophet Mohammad (P.B.U.H.) is a great personality of Islam who played a vital role in establishing the Islamic way of life. He is known for his mercy, love for others, and service to humanity, and his life embodies mercy for the sake of all humanity. 

All Prophets guided humans, but Mohammad (P.B.U.H.) brought a revolution in people’s lives. This rare phenomenon took place at a particular time in his life, and it is still an example for all humanity. Having a relationship with the Prophet means learning his model, internalizing it, and living it out.

essay on holy prophet

The Quran and Sunnah are the basis of the Islamic religion. The holy lifestyle of the Prophet (P.B.U.H.) guides us in our individual and collective life. He stressed that Muslims should have good behavior with others. Loving the Prophet Muhammad involves more than just passionate regard for him, and righteousness is about living one’s life in line with his teachings, based on the Quran and Sunnah. 

Muhammad (P.B.U.H.) emphasized good behavior with others regarding how we relate socially, economically, and politically. We’re a group of like-minded individuals who have come together to celebrate the legacy of Prophet Muhammad (P.B.U.H.) and promote awareness, knowledge, love, and learn his lifestyle. The Holy Prophet has been so kind that he even ordered his followers to be kind to animals. He (P.B.U.H.) believed in mercy and kindness.

The passion and devotion of Muslims for the Prophet Muhammad (P.B.U.H.) contribute strongly toward the growth of our Islamic knowledge, virtues, and manners. His divine guidance is what guides Muslims’ lives on an individual and community level. Mohammad (P.B.U.H.) is the last Prophet and messenger of Allah. He was sent to reform humanity and prepare them for judgment day. His prophethood and revelation are sufficient for all humankind up to the end of this world. He declared that no prophet would come after him. Whoever rejects Mohammad as a prophet is refusing to believe in one of Allah’s prophets. It shows that leaving his prophethood means that they are refusing to believe in Allah.

The Hadith regarding the Prophet Mohammad (P.B.U.H.) being a human with faults confirms that humans make mistakes. That is why every person must follow the teaching of the Holy Prophet (P.B.U.H.) because the learning that he gave not only belongs to one religion but the entire humankind. 

اردو پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم

کوئی انسان محض اللہ کے وجود یا اس کی اُلوہیت یا اس کے خالق ہونے پر ایمان لے آئے اور سمجھے کہ میں مؤمن ہوگیا ہوں تو یہ بات کافی نہیں ہے۔ جس قدر انسان اللہ کی ذات اور صفات کے بارے میں علم حاصل کرتاچلاجائے، اس علم کے مطابق انسان کا ایمان بڑھتا جائے، تب ہی اللہ ربّ العزت کی ذات پر ایمان کی تکمیل ہوگی۔ کسی ایک نام یا صفت کے انکار کی بھی گنجائش نہیں ہے! ایمان بالرسول صلی اللہ علیہ وسلم بالکل اسی طریقے سے سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر ایمان ہے۔ امام الانبیا محمد بن عبد اللہ بھی ہیں، نبی اللہ بھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور آپ حضرات نے امام الانبیا کے کئی اور نام بھی پڑھے اور سنے ہوئے ہیں۔ امام الانبیا کا ہر نام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حیثیت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جس طرح اللہ ربّ العزت کی ذات پر ایمان کی تکمیل تمام اسماء وصفات پر ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتی اور اللہ کے ساتھ بندے کے تعلقات وسیع الجہت ہیں، اللہ ربّ العزت کی اُلوہیت اور وحدانیت پر ایمان کے ساتھ اس کا ہر اسم اور صفت ایک تعلق کی نشاندہی کرتاہے، ان تمام تعلقات کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، ویسے ہی امام الانبیا پر ایمان ہے۔

ہمارا تعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی وسیع الاطراف ہے، ہر زاویے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کریں گے تب ہی امام الانبیا پر ایمان کی تکمیل ہوگی۔ ورنہ محمد بن عبد اللہ کو تو ابوجہل، عتبہ اور شیبہ سب ہی مانتے تھے بلکہ الصادق الأمین بھی مانتے تھے، لیکن ان کی بات نہیں چل سکی، جب تک محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی حیثیتیں، جتنے مقامات ومراتب کتاب اللہ اور سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان کئے گئے ہیں، اللہ ربّ العزت نے جس اعتبار سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کروایا ہے، ایک ایک بات پر یقین نہ کیا جائے تب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، ورنہ جزوی ایمان ہوگا، کلی نہیں! اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ ربّ العزت کے ہاں ناقص ایمان قبول نہیں ہوتا، صرف کامل ایمان قبول ہوتاہے۔ اور ایمان وہ مرکب ہے جس کے اجزاے ترکیبی اس کی حقیقت کا جزوِ لاینفک ہیں اور مسمیٰ الإیمان میں داخل ہیں، لہٰذا جیسے اللہ ربّ العزت پر ایمانِ کامل ہوگا تو قبول ہوگا، رسالت ِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان کامل ہوگا تو قبول ہوگا یعنی اللہ پر ایمان کی طرح جملہ اُصولِ ایمان کا یہی حکم ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ کی طرف اس لئے میں اشارہ کررہا ہوں کہ صاحب ِحدیث کا مقام ومرتبہ ہی حدیث کا مقام و مرتبہ ہے۔ جس طرح امام الانبیا کی حیثیت مسلم ہے، بعینہٖ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال، حرکات وسکنات اور اَحکام کی بھی حیثیت مسلم ہے۔ اللہ ربّ العزت نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم میں بڑا ہی واضح تعارف کرایاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی حیثیتیں بیان کی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا ہے۔ ایک ایک بات پر دل ودماغ سے یقین ہو، زبان سے اعتراف ہو، پھر اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ نبوت ورسالت پر ایمان ہے، اس کے بغیر نبوت ورسالت پر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔

مقامِ نبوت ورسالت صلی اللہ علیہ وسلم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے : قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَ‌سُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا…﴿١٥٨﴾…سورۃ الاعراف ”فرما دیجئے! اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ ” قرآن کریم کی شرح وتفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرضِ منصبی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ ربّ العزت نے قرآن کریم نازل کیا اور یہ اللہ ربّ العزت کا کلام اور اس کی وحی ہے۔

اللہ کا اپنے بندوں کے نام پیغام ہے اور امام الانبیا کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا : كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِ‌جَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ‌…﴿١﴾…سورۃ ابراھیم ”یہ کتاب ہم نے تیری طرف بھیجی ہے تاکہ تو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے۔ ” لوگوں کو قرآنِ مجید پڑھانا، سنانا، سمجھانا، اور اس کی شرح اور وضاحت کرنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بطور رسول منصبی فرض ہے۔

امام الانبیا معلم کائنات ہیں اور قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا یوں مذکور ہے : رَ‌بَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾…سورۃ البقرۃ ” اے ہمارے ربّ! ان لوگوں میں اِنہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت کرے اور اُنہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کی صفائی کرے۔ بے شک تو غالب وداناہے۔ ” اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ معلم ِکتاب وحکمت اور تزکیہ کرنے والے مربی کی حیثیت سے متعارف کرایاہے۔ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیثیت کو قرآنِ کریم میں چار مقامات پر ذکر کیا ہے، جس سے معلوم ہوتاہے کہ امام الانبیا کی یہ حیثیت اتنی واضح ہے کہ قرآنِ کریم نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کے بغیر پڑھا جاسکتاہے اور نہ آپ کی تشریحات کے بغیر سمجھا جاسکتاہے۔ قرآن کریم سے جو حکمت ودانائی کے عملی پہلولئے جا سکتے ہیں،

امام الانبیا کی تعلیم کے بغیر وہ بھی حاصل نہیں کئے جاسکتے، اور دل ودماغ کی طہارت بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کو چھوڑ کر نہیں کی جاسکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں اللہ کے نبی ہیں، وہیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حکمت ودانائی (جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی )کے معلم اور دل کی صفائی کرنے والے بھی ہیں اور یہ صرف امام الانبیا کی ایک حیثیت ہے جس کے چار پہلوہیں، اور ان کو چار دفعہ قرآنِ کریم میں بیان کیا گیاہے۔ ملاحظہ ہو : (1) سورة البقرة :129 (2) البقرة :151 (3) آل عمرانُ :164 (4) الجمعہ :2 اس سے اندازہ کرلیجیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطورِ معلم کیا مقام ومرتبہ ہے۔ کیا ایسی مبارک ذات کے بارے میں کہا جاسکتاہے کہ یہ صرف چٹھی رساں ہیں ؟ ایسی عظیم ہستی اور اس کے بارے میں یہ کہنا …جبکہ آپ کے بارے میں اللہ عزوجل نے اتنا کچھ بتا دیاہے… کہ اس کی حیثیت صرف مبلغ کی ہے، اس سے زیادہ نہیں، ایسادعویٰ سراسر نالائقی، بے علمی اور جہالت ہے۔

قرآن پاک کے بیان کی چار پانچ صورتیں ہوتی ہیں۔ ان کی تکمیل کے لئے درمیان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال کر بیان کا کوئی اِمکان ہی باقی نہیں رہتا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : لَا تُحَرِّ‌كْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ ﴿١٦﴾ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْ‌ءَانَهُۥ ﴿١٧﴾ فَإِذَا قَرَ‌أْنَـٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْ‌ءَانَهُۥ ﴿١٨﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ ﴿١٩﴾…سورۃ القیامة ” اے محمد! وحی کو پڑھنے کے لئے اپنی زبان کو زیادہ حرکت مت دیں تاکہ اس کو جلد یاد کرلیں، اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔ جب ہم وحی پڑھا کریں تو آپ اس کو سنا کریں اور پھر اسی طرح پڑھا کریں۔ پھر اس کے معانی کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ” اللہ تعالیٰ نے بیان و وضاحت کی یہ ذمہ داری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی صورت میں مکمل کردی ہے۔ اب اگر کوئی سمجھتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث قرآنِ کریم کا بیان نہیں ہے تو بتائے کہ قرآنِ کریم تو ہمارے سامنے موجود ہے پھر قرآن کا بیان کہاں ہے؟ الحمد للہ ہمیں تو اس پر اطمینانِ قلب ہے۔ غرض یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی ورسول ہونے کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کے مبین بھی ہیں اورامام الانبیا کے فرامین کتاب اللہ کا بیان ہیں اور مستقل احکام بھی اس کے اندر موجود ہیں کیونکہ یہ بھی قرآن کریم کا بیان ہی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت قرآنِ کریم کی نصوص کے مطابق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور مقام ومرتبہ اور حیثیت ثابت ہوتی ہے۔ تشریع کا حق اللہ تعالیٰ کا حق ہے، قانون بنانا شریعت بنانا اللہ تعالیٰ کا حق ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شارع ہونے میں لوگ افراط وتفریط کا شکار ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شارع حقیقی سمجھتے ہیں، یہ بھی حد سے تجاوز ہے اور کچھ لوگ بنی صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریع کا ذرا بھی حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے طائفہ منصورہ اور فرقہ ناجیہ سمجھتاہے کہ تشریع کا حق اللہ کے پاس ہے لیکن اللہ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ بیان کرنے کے لئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت اُمت پر واضح کرنے کے لئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت اجاگر کرنے کے لئے تشریع کے بعض حصے امام الانبیا کی طرف منسوب کئے ہیں اور کئی جگہ تحلیل وتحریم کی نسبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی کی ہے، تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ صرف چٹھی رساں نہیں ہیں بلکہ اس کے آگے بھی بہت کچھ ہیں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قَـٰتِلُوا ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ وَلَا يُحَرِّ‌مُونَ مَا حَرَّ‌مَ ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُ…﴿٢٩﴾…سورۃ التوبہ ”ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روزِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں۔” اللہ تعالیٰ نے جو حرام کیا ہے، وہ بھی اسی طرح ہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے۔ امام الانبیا کی تحریم بھی اللہ کی تحریم کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّ‌سُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَ‌ىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُ‌هُم بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَ‌هُمْ وَٱلْأَغْلَـٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوابِهِۦ وَعَزَّرُ‌وهُ وَنَصَرُ‌وهُ وَاتَّبَعُوا ٱلنُّورَ‌ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٥٧﴾…سورۃ الاعراف ”وہ لوگ جو محمد رسول اللہ کی… جو نبی اُمی ہیں…پیروی کرتے ہیں، جن (کے اوصاف ) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ اُنہیں نیک کا م کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر اور گردنوں ) پر تھے اُتارتے ہیں، تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت اختیار کی اور اُنہیں مدددی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے، اس کی پیروی کی، تو وہی مراد پانے والے ہیں۔”

تحلیل وتحریم کا اختیار اگرچہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ اور حیثیت بتانے کے لیے {وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ} میں تحلیل وتحریم نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی کی گئی ہے۔ گویا امام الانبیا جہاں شارح ہیں، وہاں شارع بھی ہیں، لہٰذا ایمان کی تکمیل کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقام بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ِمطاع قرآنِ پاک میں متعدد مقامات میں واردہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اسی طرح سے فرض ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے۔ فرمایا : يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا ٱتَّقُوا ٱللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿٧٠﴾ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَـٰلَكُمْ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿٧١﴾…سورۃ الاحزاب ”مؤمنو! اللہ سے ڈرو اور بات سیدھی کہا کرو؛ وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بے شک بڑی مراد پائے گا۔” اور فرمایا : {وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّ‌سُولَ فَأُولَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّـٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰٓئِكَ رَ‌فِيقًا ﴿٦٩﴾…سورۃ النساءٰ} ”اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں و ہ( قیامت کے روز ) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے بڑا فضل کیا، یعنی انبیا اور صدیق، شہید اور نیک لوگوں کے ساتھ۔ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔” مزید فرمایا: {يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا ٱلرَّ‌سُولَ وَأُولِى ٱلْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ ۚ ذَ‌ٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿٥٩﴾…سورۃ النساء} ”مؤمنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں صاحب ِ حکومت ہیں، ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہوتو اگر اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوتو اس میں اللہ اور اس کے رسول ( کے حکم ) کی طرف رجوع کرو، یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھاہے۔” مزید فرمایا: {مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ…﴿٨٠﴾…سورۃ النساء} ”جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا توبے شک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی ۔” کتنے ہی مقامات ہیں جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کواللہ نے اپنی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ قرآن کریم میں 40 مقامات پراللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے، اگر اب بھی کسی کوسمجھ نہ آئے کہ مقامِ رسالتؐ کیا ہے تو سمجھ لیجئے کہ دماغ میں خلل ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ اور آپ کی حیثیت مبہم نہیں۔اس میں بھی کوئی اشکال نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں نبی اور رسول ہیں، شارح اور شارع ہیں؛ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطاع بھی ہیں جیسے اللہ کی اطاعت فرض ہے ویسے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی فرض ہے۔

Related Essays: