Essay On Kindness Of Holy Prophet: 200-500 Words (Eng/Urdu)

Holy Prophet Muhammad (Peace Be Upon Him) is a paragon of kindness, whose life serves as an exemplary model for humankind. His merciful and compassionate nature transcended all barriers of race, religion, and social status, reflecting the true essence of Islam.

Essay On Kindness Of Holy Prophet – 200 Words

Throughout his life, Prophet Muhammad (PBUH) demonstrated unparalleled empathy and love for others, even in the face of adversity. His treatment of the poor and needy, as well as his concern for the welfare of animals, illustrates his deep-rooted kindness. One such example is when he (PBUH) mended a broken bird’s wing and cared for it until it could fly again.

The Holy Prophet’s (PBUH) magnanimous approach to his enemies is another testament to his benevolence. He consistently forgave those who sought to harm him, teaching his followers to embrace forgiveness and let go of grudges. This gracious behavior is exemplified in the Conquest of Mecca, where he forgave the people of the city despite their years of hostility.

His kind-heartedness also extended to the domestic sphere, where he upheld the rights of women and advocated for their dignity and respect. He emphasized the importance of treating one’s spouse with love and affection, a lesson still relevant today.

In conclusion, the life of Holy Prophet Muhammad (PBUH) epitomizes kindness and compassion, providing a timeless example for all humanity. His unwavering empathy, forgiveness, and concern for the well-being of others, irrespective of their backgrounds, are lessons that we must strive to incorporate into our own lives. By emulating his virtues, we can foster a world where love, tolerance, and understanding prevail.

Essay On Kindness Of Holy Prophet – 500 Words

Kindness is a universal virtue, transcending cultures, religions, and time. It is often considered as one of the pillars of a harmonious society. Among the numerous exemplary personalities in history, the Holy Prophet Muhammad (Peace Be Upon Him) stands out as a shining beacon of kindness and compassion. This essay delves into the life of the Holy Prophet, highlighting instances that illustrate his unparalleled kindness and its enduring legacy on humanity.

Early Life And Character Of The Holy Prophet

Born in the year 570 CE in Mecca, the Holy Prophet (PBUH) was an orphan, raised by his grandfather and uncle. Despite the hardships he faced in his early life, he was known for his impeccable character and noble qualities. He was often referred to as “Al-Amin” (the trustworthy) and “Al-Sadiq” (the truthful). Even before his prophethood, the Holy Prophet (PBUH) displayed exceptional kindness, which was evident in his dealings with people, animals, and the environment.

Kindness To Family And Friends

The Holy Prophet’s (PBUH) kindness was evident in his interactions with his family and friends. He was a loving husband, a caring father, and a gentle friend. He would assist with household chores, engage in playful activities with children, and help his friends in times of need. The Holy Prophet (PBUH) was known to visit the sick, console the bereaved, and attend funerals, reflecting his deep sense of empathy and concern for others.

Kindness To Enemies And Critics

Perhaps one of the most striking examples of the Holy Prophet’s (PBUH) kindness was his treatment of his enemies and critics. Despite the persecution and hostility he faced, he chose to respond with patience, forgiveness, and compassion. A famous example of this is when the Holy Prophet (PBUH) visited the house of a woman who used to throw garbage at him. When she fell ill, he went to inquire about her health, which left her astounded by his kindness and eventually led her to embrace Islam.

Another notable incident occurred after the conquest of Mecca when the Holy Prophet (PBUH) forgave his enemies who had caused immense suffering to him and his followers. Instead of seeking revenge, he granted them amnesty, exemplifying his magnanimity and commitment to peace.

Kindness To Animals And The Environment

The Holy Prophet (PBUH) demonstrated immense kindness towards animals and the environment. He urged his followers to treat animals with compassion and avoid overburdening them. He also advocated for the conservation of natural resources, emphasizing the importance of planting trees and preserving water.

The story of the Holy Prophet (PBUH) freeing a camel that was overburdened and mistreated by its owner illustrates his concern for animal welfare. Upon seeing the animal’s suffering, he admonished the owner and stressed the importance of treating animals with kindness and care.

Enduring Legacy And Lessons

The Holy Prophet’s (PBUH) life serves as an eternal reminder of the power of kindness and its potential to transform lives. His legacy of compassion continues to inspire millions of people around the world, transcending religious, cultural, and geographical boundaries. Some key lessons that we can glean from his life include:

  1. Treat everyone with respect and dignity, regardless of their social status, beliefs, or background.
  2. Forgive and let go of grudges, as this can pave the way for inner peace and spiritual growth.
  3. Show empathy and understanding to those who are suffering, as this can alleviate their pain and foster a sense of solidarity.

نبیؐ رحمت کی رحمت کے پہلو

اللہ تعالی نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے حد نرم دل اور شفیق و مہربان بنایا ہے، وہ اپنی امت کے لئے سراپا رحمت و کرم ہیں، اس کی تکلیف، کسی بھی قسم کی سختی اور شدت انہیں ناگوار گزرتی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ترجمہ:”یہ اللہ پاک کی خاص رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں“۔(آل عمران: 159)
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ترجمہ:”بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے، عظیم الشان رسول تشریف لائے، جو چیز تمہیں مشقت میں ڈالے، وہ انہیں بہت ناگوار گزرتی ہے تمہاری بھلائی کے بہت ہی متمنی ہیں۔ مومنوں پر بہت ہی مہربان و رحیم ہیں“۔(التوب: 128)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب اطہر میں پیدا کردہ اسی شفقت و رحمت کا اثر تھا کہ صرف نیک اور پرہیزگار لوگ ہی آپ کے پیش نظر نہ تھے، بلکہ گناہ گاروں پر بھی نظر کرم تھی تاکہ وہ رحمت و مغفرت سے محروم نہ رہیں اور فرمانبرداروں کے ساتھ وہ بھی رحمت میں سے حصہ حاصل کر لیں۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ:”مجھے شفاعت اور نصف امت جنت میں داخل کرنے کے درمیان اختیار دیا گیا، (کہ چاہے تو آدھی امت بخشوا لیں، چاہے شفاعت کا اختیار لے لیں) میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا ہے۔ (اے میرے غلامو!) کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ صرف متقی لوگوں کے لئے ہے؟ نہیں، یہ گناہوں اور خطاؤں کی گندگی میں لتھڑے ہوئے لوگوں کے لئے ہے“۔(ابن ماجہ
حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری امت پیاری ہے، خواہ وہ گناہ گار ہی ہو، اسی لئے شفاعت کو اختیار فرمایا تاکہ انہیں بھی بخشوایا جا سکے۔ اگر آدھی امت کو بخشوا لیتے تو باقی آدھی امت کدھر جاتی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بے یار و مددگار چھوڑنا پسند نہیں فرمایا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مسلم شریف، 2: 248)
ترجمہ:”میری اور میری امت کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے آگ جلائی، تو پروانے اور پتنگے آ کر اس میں گرنے لگے۔ میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر کھینچتا ہوں اور تم اس میں چھوٹ چھوٹ کر گرتے ہو“۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر شفقت ورحمت اور بلند مرتبہ ومقام کے پیش نظر دل وجان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم وتکریم بجالائی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہری عقیدت ومحبت رکھی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت وکردار کو اپنایا جائے۔جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا میں تشریف لانے سے لے کر قیامت کے دن تک کے تمام مراحل میں امت کو نہ صرف یاد رکھا بلکہ ان کی مغفرت وبخشش کیلئے اللہ تعالی کے حضور شفاعت وسفارش کی۔لہٰذا وفا کا تقاضا ہے کہ ہم بھی نگر نگر،قریہ قریہ،شہر شہر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کے چرچے کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے جشن منائیں جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے فرمایا:
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا
یاد اس کی اپنی عادت کیجئے
لہٰذا ایمان کی بقا اور کمال کے لئے آقا علیہ السلام کے ساتھ محبت اور ادب کے تعلق کو اس قدراستوار کیا جائے کہ آقا علیہ السلام کے ادب، اطاعت اور محبت میں فنا ہو جائیں۔ ساری خیر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت میں ہے اور سارا شر حضور علیہ السلام سے کٹ جانے میں ہے۔ اْمت جب تک حضور علیہ السلام سے جڑی رہی، وہ خیر کے چشموں سے سیراب ہوتی رہی۔ جب سے ہم ادب مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، محبت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، اتباع مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کٹ گئے تو خیر سے محروم ہوتے ہوئے اور شر کے اندھیروں میں چلے گئے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔ یہ پیغام انسانیت کو جوڑنے، امن، بقا، فلاح، بہبود، خیر اور انسانیت کی خدمت، دْکھی لوگوں کے دلوں کا سہارا بننے، پریشان حال لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ دینے اور لوگوں کو اْن کی ضروریات بہم پہنچانے اور خوشیاں دینے کا نام ہے۔ یہ تمام صفات میرے آقا علیہ السلام کا اْسوہ و سیرت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت بھی کریں اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اْسوہ اور سیرت کی اتباع بھی کریں۔ قرآن مجید، حدیث رسول، سنت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیرت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا فروغ اور انہیں اپنے کردار میں ڈھالنے میں ہی نجات ہے۔
دنیا آج بھی نبی رحمۃ اللعامین کے عظیم اسوہ کی محتاج ہے اور اگر دنیا امن قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے بالآخر اسی طرف آنا پڑے گا،انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احسن طریق پر عمل کرنا ہوگا۔آج دنیا میں جہاں امن ہے وہاں انہی رہنما اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے۔معاشرے میں بسنے والے ہر ذی روح پر رحم اور شفقت کا سلوک کرنا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کو اس پیاری تعلیم پر عمل کرتے ہوئے غریبوں،محتاجوں،یتیموں اور مسکینوں سے حسن سلوک کرنا چاہئے۔عورتوں سے رحم اور شفقت کا برتاؤ ہونا چاہئے اور اسی طرح جانوروں پر ظلم نہیں کرنا،سب کے حقوق ادا کرنے چاہئیں۔تبھی ہمارے اس معاشرہ میں امن قائم ہو سکتا ہے اور ہمارا یہ ماحول جو بد امنی،خوف،ناانصافی اور حق تلفی کا شکار ہے اس میں کچھ بہتری آسکتی ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم پْر عزم ہوں اور نیک نیت ہو کر دینی تعلیم اور اسوہ رسول صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کریں۔

ازقلم:ڈاکٹر محمد ظفر اقبال جلالی

Related Essays: